25 مئی 2012 - 19:30

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا دورۂ جاپان اور پاکستان و افغانستان میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے ٹوکیو سے ان کی درخواست سیاسی مبصرین کی نظر میں اہمیت کی حامل ہے ۔

ابنا: اگر چہ ٹوکیو میں اپنے جاپانی ہم منصب سے پاکستان کی وزیر خارجہ کی ملاقات میں علاقائی و عالمی۔ خاصطور سے افغانستان جیسے مختلف مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا تاہم جاپان میں حنا ربّانی کھر کے مذاکرات کا اہم ترین محور دو طرفہ تعلقات کا فروغ اور دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف مہم میں اسلام آباد کے کردار پر تاکید رہا ہے ۔

اسی بنیاد پر جاپانی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ سے گفتگو میں افغانستان میں امن کی برقراری میں اسلام آباد کے کردار پر زور دیتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ جولائی میں ٹوکیو میں افغانستان کے مسائل کا جائزہ لینے کیلئے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کریں ۔ پاکستان میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسی پر اسلام آباد کی برہمی کے علاوہ امریکہ کی اوباما حکومت کی جانب سے پاکستان پر طالبان گروہ کے ساتھہ تعاون کرنے کا الزام ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر پاکستان کے حکام نے سخت ردّ عمل کا اظہار کیا ہے اور اسی بناء پر پاکستان نے افغانستان سے متعّلق بون کانفرنس کا بائیکاٹ بھی کیا اسی بات کے مّد نظر جاپان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی وزیر خارجہ سے ٹوکیو کانفرنس میں شرکت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ٹوکیومیں منعقد ہونے والی کانفرنس میں افغانستان کیلئے بین الاقوامی امداد اور سنہ 2015 سے سنہ 2024 کے دوران اس ملک کی تعمیر و ترّقی جیسے مسائل کی منصوبہ بندی کی جائیگی ۔ مسّلمہ امر یہ ہے کہ پاکستان،افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ جاری رکھنا چاہتا ہے اور وہ افغانستان کی تعمیر نو کے شعبے میں جاپان کے ساتھہ اقتصادی تعاون کو اپنے آئندہ کے مفادات کا ضامن سمجھتا ہے ۔ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربّانی کھر کی اس نکتے پر تاکید کہ افغانستان کی ترّقی سے پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا افغانستان میں جاپان کے ساتھہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کے حوالے سے پاکستان کی دلچسپی کا آئینہ دار ہے یہی وجہ ہے کہ حنا ربّانی کھر نے جاپانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ علاقے کی پیچیدہ صورت حال کو سمجھتے اور پاکستان و افغانستان کی ترقی کے عمل میں مدد و تعاون کرتے ہوئے علاقے میں امن و استحکام کی برقراری میں اپنے اہم اقدامات عمل میں لائیں ۔ پاکستان کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس کے ملک نے اگر اہم شعبوں میں ترقی نہیں کی تو نتیجے میں پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ ملے گا اسی بناء پر وہ اقتصادی طاقتوں سے مدد حاصل اور پاکستان میں ترقی کا عمل آگے بڑھاتے ہوئے افغانستان کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ بیشتر سیاسی مبصرین پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی اور اسلام آباد کیلئے واشنگٹن کی امداد میں کمی کو پاکستان کی ڈیپلومیسی میں تیزی اور اس ملک کے حکام کے علاقے کے بعض ملکوں منجملہ جاپان کے دورے کا ایک اہم عامل سمجھتے ہیں ۔ پاکستان کی حکومت نے گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں مہمند ایجنسی میں فوجی چیک پوسٹ پر نیٹو کے انجام پانے والے حملے کے بعد سے کہ جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے افغانستان میں نیٹو کیلئے اپنے ملک سے ضروری سامان اور اشیاء کی سپلائی بند کردی ہے ۔

اگر چہ شیکاگو میں نیٹو کی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو شرکت کی دعوت دیکر نیٹو سپلائی بحال کئے جانے کے بارے میں گفتگو کی گئی مگر اس گفتگو کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ اس رو سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیٹو سپلائی بحال کرنے کیلئے ٹوکیو میں بھی پاکستان کی وزیر خارجہ پر شدید دباؤ ہے اور اسی بناء پر پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے جاپانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ علاقے کی دشوار صورت حال کو سمجھتے اور پاکستان کے ساتھہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے افغانستان میں اسلام آباد کے مزید تعاون کیلئے حالات سازگار بنائیں ۔ جیساکہ ٹوکیو میں منعقدہ ایشیاء کے مستقبل کے حوالے سے اّٹھارویں سالانہ کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایشیاء کے مستقبل کے پس منظر اور اس علاقے کی ترقی و پیشرفت نیز اس خطے میں امن کا عمل آگے بڑھانے میں اسلام آباد کے کرداد کی اہمیت پر خاصطور سے گفتگو بھی کی ہے// .......

/169